ابنا: النخیل ویب سائٹ کے مطابق نوری المالکی نے اردوغان کےبیان کو اشتعال انگيز اور مداخلت پسندانہ قراردیا اور کہا کہ کسی بھی ملک کو عراق کے حالات میں مداخلت کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔
مالکی نے کہا کہ عراقی شہری خواہ سنی ہوں یا شیعہ سب بھائي بھائي ہیں اور ایک دوسرے سےمحبت رکھتےہیں اور جولوگ بظاہر ایک گروہ کی حمایت کا ڈھونگ کررہے ہیں ان کی ہمدردی کی انہیں ضرورت نہیں ہے۔
عراق کے وزیر اعظم نے کہا کہ ترکی کے مفادات اور اس کے استحکام نیز بغداد اور انقرہ کے مشترکہ مفادات کا تقاضہ ہے کہ دونوں ملکوں تعاون اور علاقائي سطح پرہماہنگی ہو اور ممالک ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرنے سے پرہیز کریں۔
قابل ذکرہے ترک وزیر اعظم اردوغان نے حال ہی میں امریکہ کے نائب صدر جوبائڈن سے ٹیلیفوں پر رابطہ کرکے عرا ق میں جاری شیعہ سنی بحران پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہےکہ اس بحران کے جاری رہنے سے علاقے میں فرقہ واریت پھیل سکتی ہے۔.........
/169